نئی دہلی،24؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا کہنا ہے کہ جن ہندوؤں کے نام آسام این آر سی یا کسی دیگر این آر سی میں نہیں آ پائے ہیں، انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے- ’دی ٹیلی گراف‘ کی ایک خبر کے مطابق موہن بھاگوت نے یہ بات اتوار کو ہاوڑہ ضلع کے الوبیریا میں ہوئی آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں کی بند کمرے میں ہوئی میٹنگ میں کہی- اس میٹنگ میں آر ایس ایس سے منسلک37تنظیموں نے حصہ لیا تھا-بھاگوت نے کہا کہ خبریں مل رہی ہیں کہ آسام این آر سی میں جن19لاکھ شہریوں کے نام شامل نہیں ہو پائے ہیں ان میں سے12لاکھ ہندو ہیں - انھوں نے کہا کہ ”میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ایک بھی ہندو کو این آر سی کی وجہ سے ملک چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے-“ انھوں نے کہا کہ ”آر ایس ایس ہندوؤں کے ساتھ ہے، اس ملک میں کہیں بھی رہنے والے ہندوؤں کو این آر سی سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے-“قابل ذکر ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی ہی این آر سی پر زور دے رہی تھیں اور اب شہریت ترمیمی بل لانے کی بات کر رہی ہے- اس بل کے ذریعہ مودی حکومت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندوستان میں آئے غیر مسلموں کو ہندوستانی شہریت دے سکتی ہے-اتوار کی میٹنگ میں شامل ہوئے بی جے پی کے ایک لیڈر نے کہا کہ ”ہمیں مرکزی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ سے امید ہے کہ وہ بھی ہندوؤں کو ایسا ہی یقین دلائیں گے، جیسا کہ بھاگوت نے دلایا ہے- جب یکم اکتوبر کو امیت شاہ بنگال آئیں گے تو ہم ان سے ایسا مطالبہ کریں گے-“اس لیڈر نے مزید کہا کہ ترنمول کانگریس اور بایاں محاذ پارٹیوں کے ذریعہ این آر سی کے بہانے غلط فہمی پھیلانے اور بی جے پی کو بدنام کرنے کی کوششوں کا بی جے پی معقول جواب دے گی- غور طلب ہے کہ مغربی بنگال میں 2021میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں -اس درمیان بی جے پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی بل سے پہلے بنگال میں این آر سی نافذ نہیں کیا جائے گا- بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ”ہم نے حکومت سے پہلے دور اقتدار میں اس بل کو پاس کرانے کی کوشش کی تھی، لیکن یہ بل راجیہ سبھا میں اٹک گیا تھا- بنگال انتخاب کے بعد اب راجیہ سبھا میں بھی ہماری اکثریت ہوگی- ایسے میں ممتا بنرجی یا سی پی ایم این آر سی کے نام پر ہندوؤں کو ورغلا نہیں پائیں گے-“مغربی بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش کافی وقت سے بنگال میں این آر سی نافذ کیے جانے کا مطالبہ اٹھا رہے ہیں - عام انتخابات کے دوران امیت شاہ نے بھی بنگال سے ممتا بنرجی کو اکھاڑ پھینکنے کا عزم ظاہر کیا تھا- اس کے بعد بنگال میں بی جے پی نے42میں سے18سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی- اس کے علاوہ اسمبلی کے اعتبار سے وہ121سیٹوں پر آگے رہی تھی-